Tuesday, 1 August 2017

مہر آباد کے کھنڈر (قسط نمبر 3) از توصیف احمد

مہر آباد کے کھنڈر
توصیف احمد
قسط نمبر 3‫

آنکھ کھلی تو کسی کو گنگناتا محسوس کیا‫ ذرا سا اٹھ کر دیکھا تو بابا سامنے بیٹھا پیالیاں دھوتا ہوا گنگنا رہا تھا‫‫،
"اکھ کھل گئی ہے تیری؟"
میں اٹھ کر بیٹھ گیا، موبائل دیکھا تو سوا آٹھ بج رہے تھے.
میں نے ادھ کھلی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھا‫، وہی ویران سڑک اور دور تلک پھیلے ہوئے اجڑے ہوئے کھیت اور ایک یہ آباد ہوٹل تھا.
اس نے قہقہہ لگایا "ایک دن میں آیا تو یہاں عاقو مجرے والے کو سوتے ہوئے دیکھا‫‫‫،،،پتہ ہے اسے مجرے والا کیوں کہتے ہیں،،،بس ایک دن کہیں شادی تھی،،،طوائفیں ناچ رہی تھیں تو وہ بھی شامل ہو گیا،،، پتہ نہیں کس مرض میں وہ جی کھول کر ناچ رہا تھا،،، اس دن اس کے پیروں تلے قائداعظم کی تصویر والے نوٹ آئے تو وہ بڑا ہنسا تھا،،، اب وہ ہر مجرے میں طوائفوں کے ساتھ جاتا ہے،،، وہاں بس زمین سے نوٹ اٹھانے کی ڈیوٹی کرتا ہے،،،،بدلے میں اسے آٹھ ہزار روپے مہینہ کی تنخواہ اور خوراک ملتی ہے،،،"
"میں نے دیکھا ہے بابا،،، نوٹوں کو زمین پہ گرتے ہوئے دیکھا ہے"
وہ مسکرا دیا " نہیں... تو نے نوٹ اٹھاتا ہوا عاقو مجرے والا نہیں دیکھا پھر...اس دن وہ ہنسا نہیں تھا بلکہ اندر ہی اندر رویا تھا،،،ہنسا تو وہ ان پہ تھا جو نوٹ پھینک رہے تھے...اوئے چل اٹھ جا،،،دیکھ میری بیوی نے پراٹھے بھیجے ہیں،،، بھلی کو کم کم نظر آتا ہے لیکن پراٹھے بنا لیتی ہے،،، منہ ہاتھ دھو کر آ،،،"
میرے ذہن میں عاقو مجرے والا بیٹھ گیا تھا،‫
مجھے سوچتا دیکھ کر وہ میرے پاس آ بیٹھا "عاقو مجرے والا شہر رہتا ہے اب،،، کبھی جا کر اس سے بھی ملنا،،، پتہ دوں گا،،،"
کھانے کے دوران اس نے مجھے عاقو مجرے والے کا پتہ بتایا پھر اچانک کہنے لگا، 
"شہر کا بس اتنا تجربہ ہی کافی ہے کہ وہاں سے کبھی کوئی اچھی خبر نہیں آئی،،،حالانکہ کل حساب کتاب کر کے دیکھ لو تو ایک بار گیا ہوں شہر،،،میرے مہرآباد گاؤں 
کی ہوا کے آگے تیرے شہر کے پنکھے کولر ذرا بھی نہیں ہیں،،،میرے مہرآباد میں قاصد رہتا ہے مسافر،،،،تیرے شہر میں وہ رہتے ہیں جنہوں نے قاصد چھورے کو قاصد مفرور بنایا ہے،،،تیرے شہر میں وہ خون خوار بھیڑیے رہتے ہیں جن کے منہ پہ دعا کے گھر کی مٹی لگی ہے،،، دوبارہ شہر کی خوبی مت بیان کرنا،،، بس اک خوبی ہے کہ ساجو یار رہتا ہے وہاں،،،پتہ نہیں وہ عشق مارا کیوں رہتا ہے وہاں"
میں مسکرا دیا "اگر دل سے پوچھو تو بابا،،،شہر میں دم گھٹتا ہے میرا،،،"
اس نے چائے کی پیالی میرے سامنے رکھی "چاہ پی،،،بات جب محبت کی کرنی ہو تو چاہ بڑی ضروری ہوتی ہے،،،"
"محبت کی بات؟"
"ہاں محبت کی بات...بات جب عاقو مجرے والے کی ہو تو اسے جاننے والا سمجھ جاتا ہے کہ بات محبت کی ہو رہی ہے...شودے کو ہجر میں رہنا بسنا آگیا ہے...اپنی جوانی میں اس نے شہر والی سے دل لگایا تو میں نے اسے بتایا تھا کہ شہر سے گاؤں کی سڑک پر بری بری خبریں سفر کرتی ہیں...نہ کر عاقو....نہ کر...لیکن چھوڑ....چاہ پی... پراٹھے مزیدار ہیں نا"
---------------------------------------------------------------------------

شام دھیرے دھیرے اپنی منزل کو دوڑی جا رہی تھی‫، 
اس سر‫‫مئی خاموشی میں چڑیوں اور جھینگروں کی آواز ہی تھی جو نمایاں تھی‫، میں اس کے انتظار میں تھا جو ہر شام کے ساتھ اس آنگن میں اترتی تھی‫، میں کھلے صحن میں بیٹھ گیا تھا‫-
میں نے جناح کی تصویر والے نوٹوں کو سر سے پاؤں میں گرتے ہوئے ایک بار نہیں...لاتعداد مرتبہ دیکھا تھا. نوٹ پہ بنی ہوئی کوئی بھی تصویر اس ملک کے باسیوں کےلیے عزت و احترام کی وجہ ہوتی ہے. لیکن سر سے پاؤں تک اور پھر لگاتار پیروں تلے کچلنے کےبعد تصویر جب جیب کا رخ کرتی ہے تو وہ جیب رکھنے والے لوگوں کے چہرے انتہائی مسخ دکھائی دیتے ہیں‫. 
نوٹ چاہے طوائف کے پاؤں میں پھینکے جائیں یا قصیدہ خواں کے پیروں میں...بے حرمتی بس بے حرمتی کہلاتی ہے. جسے دل میں رکھنا ہو اسے پیروں میں روندنے کے بعد خودکشی لازم ہو جاتی ہے‫.
میں جوں جوں عاقو مجرے والے کو سوچتا جا رہا تھا اس سے ملنے کی خواہش زور پکڑتی جاتی تھی. میری آوارہ نگاہیں ہمیشہ کسی ایسی ہی کہانی کے تعاقب میں رہتی تھیں جو بس ہجر کا مارا تھا. 
وہ بھی تو ہجر ماری تھی جو اس وقت اپنی دھن میں اس کھنڈر میں داخل ہوئی تھی، میں جتنا اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بس وہی تھی،‫
اس کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ کوئی اس اجڑے ہوئے صحن میں یوں اس کا منتظر ہو گا،‫مجھے دیکھ کر اچانک "ہائے ربا" کہتے ہوئے رکی اور فوراً واپس پلٹی، لیکن وہ رک گئی، وہ ہوبہو قاصد مفرور کی آنکھوں میں بسی تصویر کی مانند تھی،
"میں مہمان آیا ہوں یہاں،،،کسی نے مجھے پتہ دیا کہ اس گھر چلے جانا"
"کس نے پتہ دیا ہے،،،"
"نیا نیا اک جاننے والا ہے میرا،،،وہ کہتا ہے یہ اس کا گھر ہے"
"مم،،،،مطلب"
"آپ پریشان نہ ہوں جی،،، میں یہاں بالکل ٹھیک ہوں،،،اور جس نے مجھے اس گھر کا پتہ دیا ہے وہ بھی بالکل ٹھیک ہے،،،بس پانی پلا دیجیے اگر ہو سکے تو‫‫‫،،،مہمان ہوں نا "
وہ واپس چلی گئی تھی‫.

Composed & Cover : AL-AIN

No comments:

Post a Comment