مہر آباد کے کھنڈر
توصیف احمد
قسط 2
یہ مہر آباد کو جانے والی اکلوتی سڑک کے کنارے کھڑا ایک ڈھابہ سا تھا۔ اور نہ جانے کتنے برس سے بس یہیں کھڑا تھا۔ جس کے باہر بیری کا ایک بوڑھا درخت تھا جس کے نیچے تین چار ٹوٹی پھوٹی چارپائیاں دھری ہوئ تھیں۔ چاچو ہوٹل کے اس مالک کا نام نہ جانے کیا تھا لیکن میں نے اکا دکا لوگوں سے چاچو ہی سنا تھا۔ حالانکہ اس کی عمر چاچا سے کہیں زیادہ تھی۔
" یہ مہر آباد کو جانے والی سڑک پہلے بھی یونہی ویران ہوتی تھی بابا"
میں نے پوچھا تو اس نے نگاہ بھر کر دور تلک دیکھا اور پھر میرے پاس آ بیٹھا۔
اس کا لہجہ خالص پنجابی تھا "نہیں جی۔۔۔میں نے اسے ہر روز آہستہ آہستہ ویران ہوتے دیکھا ہے۔۔۔اک بات تو بتائی نہیں تم نے کہ آئے کہاں سےہو"
میں مسکرا دیا "بس یہیں کہیں سے۔۔۔نزدیک شکار کھیلنے آیا تھا۔۔۔اجڑا ہوا مہرآباد دیکھ کر رک گیا"
"چائے صحیح ہے نا؟"
"ہاں بابا۔۔۔آپ کبھی شہر گئے ہو؟"
میں نے پوچھا تو وہ مسکرا دیا "ساجد خان کو جانتے ہو۔۔۔نہیں جانتے۔۔۔میرے بچپن کا یار تھا۔۔۔چھوٹی سی عمر میں وہ شہر چلا گیا تھا۔۔۔شہر سے گاؤں کے راستے پر الٹی سیدھی خبریں سفر کرتی رہتی ہیں۔۔۔ایک دن اس کی بھی خبر آئی کہ کسی کے عشق میں بے موت مارا گیا ہے۔۔۔مرجانے کا مطلب ہے کہ مرنے جوگا ہو گیا نا۔۔۔ایک بار وہ آیا گاؤں تو میری بحث لگ گئی اس کے ساتھ۔۔۔اسے شہر راس آنے والا تھا۔۔۔اور مجھے گاؤں۔۔۔بحث بحث میں شرط لگ گئی نا۔۔۔بس وہ پھر کبھی شہر سے واپس نہیں آیا'
میں نے پوچھا "مطلب آپ شرط ہار گئے"
وہ مسکرا دیا "بڑے ذہین ہو۔۔۔لیکن ایسی باتیں بوجھ جانے والے عقل مند نہیں ہوتے۔۔۔خود کو عقل مند مت سمجھو۔۔۔اچھا۔۔۔ہاں میں شرط ہار گیا کیونکہ میں چلا گیا تھا۔۔۔ڈیڑھ دو سال پہلے گیا تھا۔۔۔جس محلے میں وہ رہتا تھا وہاں اسے سب چاچا ساجو کہہ کر بلاتے تھے۔۔۔لیکن میں نے محسوس کیا کہ ان سب کے لہجوں میں عزت ہوتی تھی۔۔۔وہاں جا کر جب اسے دیکھا تو پتہ چلا کہ کمبخت عشق میں واقعی بے موت مارا گیا تھا۔۔۔میں سمجھتا تھا کہ شادی وادی کر لی ہو گی اس نے۔۔۔لیکن وہ اس عشق زادی کو نہیں بھولا تھا۔۔۔تم اس سے ایک بار ضرور ملنا۔۔۔اسے یہ بھی بتانا کہ مہر آباد اب نہیں بچا۔۔۔ کہنے کو کہوں تو حساب کتاب کر کے ایک قاصد کی دعا بچی ہے مہرآباد کی جھولی میں"
میں انجان بن بیٹھا " قاصد کی دعا؟"
وہ ہنس دیا "تو شکار کھیلنے آیا تھا۔۔۔ اجاڑ دیکھ کر رک گیا۔۔۔کیسے ممکن ہے کہ تو مہرآباد کو جانتا ہے اور قاصد کو نہیں"
" جانتا ہوں بابا۔۔۔ جب اپنے دوست سے ملے تھے تو اس سے اس عشق زادی کا پوچھا؟"
وہ اٹھ کر اپنے تھڑے پہ بیٹھ گیا "ہمم۔۔۔۔پوچھا تھا۔۔۔ لگتا ایسے ہے جیسے تو بھی بے موت مارا جا چکا ہے۔۔۔ لیکن لگتا نہیں ہے۔۔۔ ہاں بھئی۔۔۔ پوچھا تھا میں نے اس سے۔۔۔ بلکہ شہر کے اندر جا کر اسے دیکھا بھی تھا۔۔۔ بالکل ساجو کی آنکھوں میں بسی مورت جیسی تھی۔۔۔ میں ہوٹل بند کرنے لگا ہوں۔۔۔ تو رات کہاں گزارے گا؟
میں اٹھنے لگا " بہت جگہیں ہیں بابا۔۔۔ کہیں جگہ نہ ملی تو آجاؤں گا اس بیری کے درخت تلے"
" آجانا۔۔۔ چارپائیاں باہر ہی پڑی ہوتی ہیں۔۔۔آ جانا"
میں ابھی مڑا ہی تھا کہ اس نے آوا ز دی
" مجھے ایسا لگتا ہے جیسے تو واپس ان ٹوٹی چارپائیوں پہ ضرور آئے گا۔۔۔میں گھر چلاجاتا ہوں۔۔۔ کبھی دکھائوں گا "
میں سڑک پہ آیا اور پھر وہیں کھڑا مہرآباد کی جھولی میں اترتی ہوئی شام دیکھنے لگا۔
مجھے پورا یقین تھا جیسے شام کی ہلکی سنہری کرنیں وجود کے اندر چھید کرتی ہوئی دور تلک اتر جاتی تھیں ویسے ہی مہرآباد کا وجود سلگ رہا تھا۔ یہاں بس قاصد کی دعا گردش کرتی رہتی تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وہاں رک جاؤں لیکن جہاں کھڑا تھا اس سے آگے جانے کی ہمت کھو بیٹھا۔ مجھے کبھی کھنڈرات میں گردش کرتی ہوئی اندیکھی مخلوق سے کبھی ڈر نہیں لگا۔۔۔لیکن مہرآباد کے کھنڈرات میں دعا گردش کرتی تھی۔
آج کا کام کل پر چھوڑ کر میں واپس پلٹ آیا۔ اس نے ٹھیک کہا تھا کہ مجھے واپس ان ٹوٹی ہوئی چارپائیوں پہ ہی آنا تھا۔ میں نے بستے سے بسکٹ کا پیکٹ نکالا اور رات کا شاہی کھانا سمجھ کر دعوت اڑانے لگا۔ اس دعوت میں وہ شامل تھی جسے میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔
Cover & Composed by: AL-AIN
توصیف احمد
قسط 2
یہ مہر آباد کو جانے والی اکلوتی سڑک کے کنارے کھڑا ایک ڈھابہ سا تھا۔ اور نہ جانے کتنے برس سے بس یہیں کھڑا تھا۔ جس کے باہر بیری کا ایک بوڑھا درخت تھا جس کے نیچے تین چار ٹوٹی پھوٹی چارپائیاں دھری ہوئ تھیں۔ چاچو ہوٹل کے اس مالک کا نام نہ جانے کیا تھا لیکن میں نے اکا دکا لوگوں سے چاچو ہی سنا تھا۔ حالانکہ اس کی عمر چاچا سے کہیں زیادہ تھی۔
" یہ مہر آباد کو جانے والی سڑک پہلے بھی یونہی ویران ہوتی تھی بابا"
میں نے پوچھا تو اس نے نگاہ بھر کر دور تلک دیکھا اور پھر میرے پاس آ بیٹھا۔
اس کا لہجہ خالص پنجابی تھا "نہیں جی۔۔۔میں نے اسے ہر روز آہستہ آہستہ ویران ہوتے دیکھا ہے۔۔۔اک بات تو بتائی نہیں تم نے کہ آئے کہاں سےہو"
میں مسکرا دیا "بس یہیں کہیں سے۔۔۔نزدیک شکار کھیلنے آیا تھا۔۔۔اجڑا ہوا مہرآباد دیکھ کر رک گیا"
"چائے صحیح ہے نا؟"
"ہاں بابا۔۔۔آپ کبھی شہر گئے ہو؟"
میں نے پوچھا تو وہ مسکرا دیا "ساجد خان کو جانتے ہو۔۔۔نہیں جانتے۔۔۔میرے بچپن کا یار تھا۔۔۔چھوٹی سی عمر میں وہ شہر چلا گیا تھا۔۔۔شہر سے گاؤں کے راستے پر الٹی سیدھی خبریں سفر کرتی رہتی ہیں۔۔۔ایک دن اس کی بھی خبر آئی کہ کسی کے عشق میں بے موت مارا گیا ہے۔۔۔مرجانے کا مطلب ہے کہ مرنے جوگا ہو گیا نا۔۔۔ایک بار وہ آیا گاؤں تو میری بحث لگ گئی اس کے ساتھ۔۔۔اسے شہر راس آنے والا تھا۔۔۔اور مجھے گاؤں۔۔۔بحث بحث میں شرط لگ گئی نا۔۔۔بس وہ پھر کبھی شہر سے واپس نہیں آیا'
میں نے پوچھا "مطلب آپ شرط ہار گئے"
وہ مسکرا دیا "بڑے ذہین ہو۔۔۔لیکن ایسی باتیں بوجھ جانے والے عقل مند نہیں ہوتے۔۔۔خود کو عقل مند مت سمجھو۔۔۔اچھا۔۔۔ہاں میں شرط ہار گیا کیونکہ میں چلا گیا تھا۔۔۔ڈیڑھ دو سال پہلے گیا تھا۔۔۔جس محلے میں وہ رہتا تھا وہاں اسے سب چاچا ساجو کہہ کر بلاتے تھے۔۔۔لیکن میں نے محسوس کیا کہ ان سب کے لہجوں میں عزت ہوتی تھی۔۔۔وہاں جا کر جب اسے دیکھا تو پتہ چلا کہ کمبخت عشق میں واقعی بے موت مارا گیا تھا۔۔۔میں سمجھتا تھا کہ شادی وادی کر لی ہو گی اس نے۔۔۔لیکن وہ اس عشق زادی کو نہیں بھولا تھا۔۔۔تم اس سے ایک بار ضرور ملنا۔۔۔اسے یہ بھی بتانا کہ مہر آباد اب نہیں بچا۔۔۔ کہنے کو کہوں تو حساب کتاب کر کے ایک قاصد کی دعا بچی ہے مہرآباد کی جھولی میں"
میں انجان بن بیٹھا " قاصد کی دعا؟"
وہ ہنس دیا "تو شکار کھیلنے آیا تھا۔۔۔ اجاڑ دیکھ کر رک گیا۔۔۔کیسے ممکن ہے کہ تو مہرآباد کو جانتا ہے اور قاصد کو نہیں"
" جانتا ہوں بابا۔۔۔ جب اپنے دوست سے ملے تھے تو اس سے اس عشق زادی کا پوچھا؟"
وہ اٹھ کر اپنے تھڑے پہ بیٹھ گیا "ہمم۔۔۔۔پوچھا تھا۔۔۔ لگتا ایسے ہے جیسے تو بھی بے موت مارا جا چکا ہے۔۔۔ لیکن لگتا نہیں ہے۔۔۔ ہاں بھئی۔۔۔ پوچھا تھا میں نے اس سے۔۔۔ بلکہ شہر کے اندر جا کر اسے دیکھا بھی تھا۔۔۔ بالکل ساجو کی آنکھوں میں بسی مورت جیسی تھی۔۔۔ میں ہوٹل بند کرنے لگا ہوں۔۔۔ تو رات کہاں گزارے گا؟
میں اٹھنے لگا " بہت جگہیں ہیں بابا۔۔۔ کہیں جگہ نہ ملی تو آجاؤں گا اس بیری کے درخت تلے"
" آجانا۔۔۔ چارپائیاں باہر ہی پڑی ہوتی ہیں۔۔۔آ جانا"
میں ابھی مڑا ہی تھا کہ اس نے آوا ز دی
" مجھے ایسا لگتا ہے جیسے تو واپس ان ٹوٹی چارپائیوں پہ ضرور آئے گا۔۔۔میں گھر چلاجاتا ہوں۔۔۔ کبھی دکھائوں گا "
میں سڑک پہ آیا اور پھر وہیں کھڑا مہرآباد کی جھولی میں اترتی ہوئی شام دیکھنے لگا۔
مجھے پورا یقین تھا جیسے شام کی ہلکی سنہری کرنیں وجود کے اندر چھید کرتی ہوئی دور تلک اتر جاتی تھیں ویسے ہی مہرآباد کا وجود سلگ رہا تھا۔ یہاں بس قاصد کی دعا گردش کرتی رہتی تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ وہاں رک جاؤں لیکن جہاں کھڑا تھا اس سے آگے جانے کی ہمت کھو بیٹھا۔ مجھے کبھی کھنڈرات میں گردش کرتی ہوئی اندیکھی مخلوق سے کبھی ڈر نہیں لگا۔۔۔لیکن مہرآباد کے کھنڈرات میں دعا گردش کرتی تھی۔
آج کا کام کل پر چھوڑ کر میں واپس پلٹ آیا۔ اس نے ٹھیک کہا تھا کہ مجھے واپس ان ٹوٹی ہوئی چارپائیوں پہ ہی آنا تھا۔ میں نے بستے سے بسکٹ کا پیکٹ نکالا اور رات کا شاہی کھانا سمجھ کر دعوت اڑانے لگا۔ اس دعوت میں وہ شامل تھی جسے میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔
Cover & Composed by: AL-AIN

No comments:
Post a Comment