Tuesday, 1 August 2017

"مہرآباد کے کھنڈر" از توصیف احمد


"مہرآباد کے کھنڈر"
توصیف احمد
قسط نمبر 1

" سوچ لے اک روز خبر جائے گی تیری،،،"
وہ ہنس دیا‫‫. 
"کس کو جائے گی خبر،،،"
ہنسنے کی باری میری تھی لیکن نہ جانے کیوں میں مسکرا بھی نہیں سکا‫.
"اسی کو قاصد صاحب،،،جس کے باغ میں دو عدد لیموں کے پودے لگے ہیں،،، بچوں کے ڈر سے سارا دن باغ پہ نظرے گاڑے رکھتی ہے،،،اس کو قاصد صاحب جس کے صحن میں ایک عدد کیکر کا درخت ہے،،،صبح سویرے آنگن سے کیکر کے پھولوں کی صفائی کرتے ہوئے جسے بس تو یاد رہتا ہے قاصد صاحب،،،"
ایک پرانی چپ اس کے چہرے پہ قبضہ کر بیٹھی تھی. اب میں مسکرا دیا.
"ہو گئی نہ ہنسی گم قاصد صاحب،،،ہنسی گم ہو جاتی ہے،،،پھر کہتا ہوں کہ ایک دن اسے خبر جائے گی کہ پولیس مقابلے میں مشہور مفرور قاصد جان صاحب گزر گئے،،،بلکہ ہلاک ہو گیا،،، مارنے والے افسر کے کاندھے پہ ایک پھول کا بوجھ اور بڑھ گیا"
وہ کہنے لگا "نہیں شاعر صاحب،،، اسے یہ خبر میں نہیں جانے دوں گا،،، ویسے بھی میں نے دشمن کو مارے بغیر پولیس مقابلہ نہیں کرنا،،،قسم کھائی ہے میں نے،،،"
میں ہنس دیا "چل او بھئی،،، کبھی جیل جا کر تو دیکھ،،، تیری جیسی قسمیں وہاں رلتی پھرتی ہیں،،،میری بات مان،،،کسی ایسی جگہ دور چلا جا جہاں کم از کم کیکر کے پیلے پھولوں کی خوشبو نہ پہنچے،،، ایک بات تو طے ہے قاصد میاں،،، اب تو اس کے سامنے نہیں جا سکتا،،، ظاہر ہے چار قتل کرکے تو کوئی وزیر وزور تو ہے نہیں کہ کھلے عام پھرتا رہے،،، تو ٹھہرا مہرآباد کے غریب چرواہے کا پتر،،، تیرا بچنا ناممکن ہے اس کیس سے،،، اگلوں کے پاس نوٹ ہیں نوٹ،،، تیرے پاس تو،،،،کیکر کا اک پھول بھی نہیں ہے،،،"
وہ اٹھ کر جانے لگا تو اچانک مڑا.
"میں نے مان لیا ہے اب میں اسے کبھی نہیں دیکھ سکوں گا،،،لیکن شاعر صاحب ایک بات اب تو بھی مان جا،،، چار پہ بس نہیں کرنی میں نے،،، میری گلی میں جس جس کمینے کا پیر پڑا ہے،،،اس کے پیر کاٹنے تک بس نہیں کرنی میں نے،،، چار کے بعد تین اور ہیں،،،پھر بھانویں جیل ہوئے یا پولیس مقابلہ،،،خبر جائے گی پھر،،، دشمنوں کو مار کر مرا ہوں"
وہ چلا گیا تھا‫،
اس کا نام قاصد جمیل جان تھا. مہرآباد کی چھوٹی سی بستی کے ایک کونے میں ایک بغیر دروازے کا گھر تھا‫. لیکن اب تو وہ کھنڈر بن چکا تھا جہاں اب کبھی کبھی گرمیوں کی تپتی ہوئی دوپہر میں گرم لو کے تھپیڑے سہتی ہوئی "دعا" داخل ہوتی تھی‫.
عارض پہ ہجر کی لالی سجائے وہ ایک بار صحن کا طواف کرتی اور پھر آنکھوں میں خالی پن بھرے واپس لوٹ جاتی. اپنے گھر سے نکلتے وقت اسے مکمل یقین ہوتا تھا کہ ان کھنڈروں میں قاصد جمیل نہیں ہوتا...لیکن کہتے ہیں ہجر آخر بیماری ہی تو ہے جو رگوں میں سفر کرتی ہے تو وجود مسافت کا عادی ہو جاتا ہے. وہ بھی شاید اس مسافت کی عادی ہو چکی تھی.
بلکہ وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ بیماری نے اسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا‫.
میں اسے دور تلک جاتا ہوا دیکھتا رہا.اس نے جانا بھی کہاں تھا،لوٹ کر انہی چھوٹی بڑی ٹیکریوں میں ہی آنا تھا. وہ پھر کسی دشمن کی خبر لینے گیا تھا.
سورج بس ٹیکریوں کی اوٹ میں چھپنے کےلیے بے تاب تھا. پہاڑیوں سے سرمئی کرنیں اترتیں اور نشیبی جگہوں پہ بکھر جاتیں. میں نے کاغذ موڑ توڑ کر جیب میں ڈالے اور اٹھنے لگا.
زندگی کا بس یہی وطیرہ ہے کہ پہاڑیوں سے سرمئی کرنوں کی طرح اترتی ہے اور پھر...بکھر جاتی ہے. میں چند دن پہلے ہی اس بات کو سمجھ گیا تھا جب میں نے اس ہجر زدہ "دعا" کو دیکھا تھا. مہرآباد کے سب سے خوبصورت کھنڈرات میں سے ایک وہ تھی. کسی رت میں وہ ایک مکمل گاؤں تھی...ہرا بھرا گاؤں...!

(جاری ہے)

Designed & Composed by: AL-AIN العین

No comments:

Post a Comment